زراعت پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستّون ہے۔ ملکی جی ڈی پی میں زراعت کا 23 فیصدحصہ ہے. اس کے علاوہ زراعت سے متعلقہ مصنوعات کا ملکی آمدنی میں حجم 80 فیصد تک ہے۔ مزید برآن زرعی شعبہ سے 42.3 فیصد آبادی کا روزگار بھی وابستہ ہے-
سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ پنجاب زرعی پیداوارکا سب سے بڑا حصہ فراہم کرتا ہے۔ پنجاب کی 48 فیصد آبادی کے روزگار کا ذریعہ بھی زراعت ہے۔ زرعی شعبہ بڑی صنعتوں مثلاً ٹیکسٹائل،چمڑے،چاول کی پروسیسنگ،خوردنی تیل اور فوڈ پروسیسنگ کو خام مال مہیا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔پاکستان کی کل ملکی برآمدات میں زراعت کا شعبہ تین چوتھائی ہے اور اس کا 60 فیصد حصّہ صوبہ پنجاب سے حاصل ہوتا ہے۔ کئی سالوں سے صوبہ پنجاب ملک میں جاری فوڈ سکیورٹی کے چیلنج سے نبرد آزماہے۔
صوبہ پنجاب آبادی کے اعتبار سے دوسرا بڑا صوبہ ہے جس کا رقبہ 20.63 ملین ہیکٹر ہے جو کل ملکی اراضی کا 25.9 فیصد بنتا ہے۔ زمین کے استعمال کی حیثیت کے اعتبار مجموعی طور پر 86 فیصد علاقہ قابل رسائی ہے جبکہ 14 فیصد علاقہ کی رپورٹ میسر نہیں ہے۔ مزید14 فیصد رقبہ زراعت کیلئے دستیاب نہیں ہے جویا تو مکمل طور پر زرخیز ہے یا انفراسٹرکچر کے زیر تسلط گردانا جاتا ہے۔ نتیجتاًصوبہ کا کل 72 فیصد رقبہ فصلات کیلئے دستیاب ہے۔ اس میں سے10.81 ملین ہیکٹر(53%) رقبہ پر فصلات کی بوائی کاکام ہوتا ہے؛ یہ وہ رقبہ جسے کم از کم سال میں ایک مرتبہ زیر کاشت لایا جاتا ہے۔ 9 فیصد اراضی کو موجودہ آبشار کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ 8 فیصد اراضی کو تقافتی متروکہ رقبہ کے طور پر نشان زد گردانا گیا ہے جس کا مطلب ہے یہ وہ رقبہ ہے جو تین سال سے زیادہ عرصے سے قابلِ کاشت نہیں ہوتا اوراسے کاشتہ رقبہ کا ہی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں 52 لاکھ 49 ہزار800 زرعی فارمز موجود ہیں۔ یہ فارمز بہت چھوٹے کھیتوں پر مشتمل ہیں۔ 42 فیصد فارمز 1 ہیکٹر سے بھی کم رقبہ پر ہیں۔1 سے لیکر10 ہیکٹر تک فارمز مجموعی تعداد کا نصف ہیں جو کہ68.9 فیصد قطع اراضی پر مشتمل ہیں۔ 10 یا اس سے زائد رقبہ کے فارمز 22.2 فیصد رقبے پر مشتمل ہیں۔ صوبہ پنجاب کا مجموعی قابلِ کاشت رقبہ 16.68 ملین ہیکٹر ہے جس میں سے5.87 ملین ہیکٹر رقبہ کی بوائی سال میں ایک بار ہوتی ہے۔ پچھلےمالی سال کے دوران گندم 40، کپاس11.5اوردھان 12.8 فیصد رقبہ زیر کاشت لایا گیا۔ صوبہ میں لائیواسٹاک کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے چارہ11 جبکہ مکئی اور گنے کی کاشت بالترتیب 4.2 اور4.8 فیصدرقبہ پر کی گئی۔ تیلدار اجناس،دالوں اور سبزیات کی 12 فیصد رقبہ پر کاشت ہوئی۔
محکمہ زراعت پنجاب کا مقصد صوبے میں غذائی تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے زرعی لاگت کو موثر انداز میں جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے جس سے کاشتکار خوشحال ہوں اور اُن کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔
































